تھری جی: ٹیلی کوم سروسز کی دنیامیں نئی ٹیکنولوجی

دنیا جدیدیت کی طرف سفر کر رہی ہے اور روز بروز نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔ انسان نے اپنی آسانی کے لئے کروڑوں ذرائع تلاش کر لئے ہیں۔ انسان اب زمین سے خلاءکی طرف کامیابی سے سفر کر رہا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی بدولت روابط آسان ہو گئے ہیں، لوگ ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے پوری دنیا سے بات کر سکتے ہیں۔ انفو کمیونیکیشن سروسز کی دنیا میں ٹیکنولوجی نے انقلاب برپا کر دیا ہے۔

Continue reading

Posted in information technology | Leave a comment

جدید ٹیکنولوجی اور سر سبز انقلاب

زراعت پاکستان کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے زرعی شعبے کی ترقی ملک کی ترقی ہے۔ دنیا جدیدیت کی طرف سفر کر رہی ہے اور ہم اب تک زراعت کے روایتی طریقوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے بیشتر کسان ابھی تک ہل چلانے کے لئے بیلوں کا استعمال کر رہے ہیں جبکہ دنیا کے دیگر ممالک جدید ٹریکٹروں کا استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی فصلوں کی پیداوار ایک حد تک بڑھنے کے بعد رک گئی ہے مگر افسوس اس بات پرہے اس بات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔

حکومتی سطح پر زبانی کلامی زراعت کی ترقی کی باتیں ہورہی ہیں مگر اس معاملے میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔ ملک میں جدید ٹیکنولوجی استعمال کرنے کے مشورے دیئے جاتے ہیں لیکن ٹیکس بھی لگا دیا جاتا ہے۔ کسان پہلے ہی غریب ہیں مہنگی ٹیکنولوجی کیسے خریدینگے؟ ان حالات میں کسانوں سے زیادہ پیداوار کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ ہمیں کسانوں کی خوشی کا خیال رکھتے ہوئے کسانوں کو سستی ٹیکنولوجی مہیا کرنی چاہیئے تاکہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔

حکومت ٹیکنولوجی کی اہمیت سے واقف ہے مگر نامعلوم وجوہات کہ بنا پر جدید ٹیکنولوجی کے استعمال کو فروغ نہیں دیا جارہا ہے۔ جدید زرعی ٹیکنولوجی نہ صرف پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ اس سے ملکی خوشحالی میں اضافہ اور پریشانیوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ہمیں زراعت کی روایات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں روایتی زرعی انداز کو ترک کرنا ہوگا۔

کسانوں میں خواندگی کی شدید کمی ہے،جس کی وجہ سے وہ جدید ٹیکنو لو جی سے استفا دہ نہیں کرسکتے ہیں۔ جدید ٹیکنولوجی کے استعمال کے حوالے سے کسا نوں کی باضابطہ تربیت سے زرعی شعبے کو تر قی دی جا سکتی ہے۔ ہم گندم، گنے، چاول، کپاس اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں خاص مقام رکھتے ہیں، اس مقام کو برقرار رکھنے اور بیرونی زرعی منڈیوں کواپنے قابو میں کرنے کے لئے مزید پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے جو صرف جدید ٹیکنولوجی کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے۔

ملک کے کل اسی ملین ہیکڑ ز رقبے میں سے صرف اکیس ملین ہیکڑ رقبہ قابل کاشت ہے، زرعی زمین کا ایک بڑا حصہ غیر زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہو رہاہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں روزانہ تقریباًپانچ سو ایکڑ زرعی زمین آبادیوں کی وسعت اور بہت سی دیگر غیر زرعی سرگرمیوں کے لئے استعمال میں لائی جارہی ہے۔

زیر زمین پانی کی سطح بلند ہونے، کھارے پانی کے بڑھنے، نیز ساحلی اور پہاڑی علاقوں میں زمین کے کٹائو جیسے مسائل زرعی رقبے کو مزید کم کر رہے ہیں۔ اگر یہی مسائل برقراررہے تو ملکی زراعت کو شدید نقصان پہنچے گا۔

جدید ٹیکنولوجی نہ صرف کم رقبے میں زیادہ پیداوار دے سکتی ہے بلکہ ایسے علاقے جہاں کی زمین کاشتکاری کے قابل نہیں اس کو بھی کاشت کے قابل بناتی ہے۔ ہم جدید زرعی ٹیکنولوجی کو ملک میں فروغ دیتے ہوئے سر سبز انقلاب کا خواب ممکن کر سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے جدید ٹیکنولوجی کی دستیابی کے باوجود ہمارے ہاں چھوٹا کاشتکار مختلف مشکلات کا شکار ہے جس کی وجہ سے ترقی پسند کاشتکار کے مقابلے میں پیداوار کا گندم میں فرق ترتالیس عشاریہ پانچ فیصد اور کپاس میں تیس عشاریہ آٹھ فیصد دیکھنے میں آتا ہے اس خلیج کو پورا کرنے کے لئے زرعی ٹیکنولوجی کی مدد لینی چاہئے۔

کھاداور پانی کا ضرورت سے زائد استعمال نہ صرف زیاں ہے بلکہ سے کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ جدید ٹیکنولوجی کے استعمال سے اپنی کاشتکاری لاگت اور پیداواریت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ آبپاشی کے جدید طریقے ڈرپ ایری گیشن سے پانی کے چھڑکائو جیسے روایتی طریقوں کی نسبت چالیس فیصدکم پانی استعمال ہوتا ہے۔ اس سسٹم کے تحت طویل دورانیے تک پانی کی کم مقدار کا استعمال فصلوں کی افزائش کے لئے نہایت فائدہ مند ہے۔ اس سسٹم میں پانی مناسب طریقے سے استعمال ہوتا ہے جس سے وہ اچھی طرح فصلوں کی جڑوں تک پہنچ جاتاہے اور اس طرح کم پانی کے استعمال کے ساتھ ساتھ زمین کا کٹائو بھی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ فصلوں میں گھاس اور دیگر جڑی بوٹیوں کو پانی نہ ملنے سے ان کی نشوونما نہیں ہوتی۔ فصلوں کی بعض بیماریاں زیادہ مرطوب ہونے سے پھیلتی ہیں لیکن یہ نظام اس طرح کی بیماریوں کا معاون نہیں ہے۔ کسانوں کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈرپ ایری گیشن سسٹم لگانے پر لاگت بھی کم آتی ہے۔

گزشتہ پچیس سالوں میں دنیا کے بہت سے ممالک نے بائیوٹیکنولوجی، ایگروکیمیکلز کے استعمال اور بیجوں کی نئی اقسام کاشت کر کے فی ایکڑ زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے بارہ ترقی پذیر ممالک کے تقریباً گیارہ ملین چھوٹے کاشتکار بائیوٹیکنولوجی کا استعمال کر رہے ہیں اور اس ٹیکنولوجی سے پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں۔

1980ءسے اب تک پاکستانی زرعی شعبے میں جدید ٹیکنولوجی کی بدولت گندم کی پیداوار میں تین عشاریہ تین فیصد، چاول کی پیداوار میں تین، کپاس کی پیداوار میں تین جبکہ گنے کی پیداوار میں ایک عشاریہ فیصد اضافہ حاصل کرچکا ہے۔ جدید دور میں فصلوں کی کٹائی اور بیج بونے کے لئے تھریشر اور ہارویسٹر کا استعمال عام ہو رہا ہے، ہمارے ملک میں بھی ایسی تمام ٹیکنولوجی عام ہونی چاہیئے۔

پاکستان میں زرعی ترقی، ملکی خوشحالی اور خود اعتمادی کے لئے زرعی ٹیکنولوجی کو فروغ دینے کے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ملک میں انگنت سرکاری و نیم سرکاری ادارے اور تحقیقی مراکز زرعی ترقی کے لئے کام کر رہے ہیںجو کہ ملک میں زرعی ٹیکنولوجی کو فروغ دینے میںاہم کر دار ادا کر سکتے ہیں، بس ان کا فعال بنانے کی ضرورت ہے۔

تحریر: سید محمد عابد

Posted in Agriculture | Leave a comment

پیسچرائزاور غیر پیسچرائزڈ دودھ کا استعمال

ہماری زندگی میں کچھ چیزیںبہت خاص ہوتی ہیں اور ان کا متبادل بھی کوئی نہیں ہوتا، دودھ بھی انہی چیزوں میںسے ایک ہے۔ ہم سب اپنی زندگی کے سفر کا آغاز دودھ ہی سے کرتے ہیں۔ بچپنے سے لے کر بڑھاپے تک ہرانسان دودھ اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کا استعمال کرتا ہے۔ دودھ میں انسان کو توانائی فراہم کرنے والے اجزاءمثلاًوٹامن اے ، بی اور دیگر پائے جاتے ہیں۔ ملکی جی ڈی پی میں دودھ اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کا حصہ گیارہ فیصد ہے۔ اسی لئے دودھ اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان دنیا میں دودھ کی پیداوار میں چوتھے نمبر پرشمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان سے اوپر دودھ کی پیداوار والے ممالک میں بالترتیب ہندوستان، چین اور امریکہ شامل ہیں۔ ملک میں مویشیوں کی تعداد تقریباً پانچ کروڑ سے زائد ہے جن سے سالانہ پنتالیس بلین لیٹرسے زائد دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں دودھ کی زیادہ پیداوار دینے والی گائیں اور بھینسوں میں ساہیوال کی گائیں اورنیلی راوی بھینسیں مشہور ہیں۔

Continue reading

Posted in Agriculture | Leave a comment

کوڑاکرکٹ، توانائی کے حصول کا ذریعہ

پاکستان گزشتہ کئی سال سے توانائی کے بحران میں مبتلا ہے، ہر شخص اسی سوچ میںگم ہے کہ توانائی کے بحران کو کیسے ختم کیا جائے۔ کہیں سولر پینل کا استعمال کیا جا رہا ہے تو کہیں بائیو گیس سے بجلی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مگر حکومت ہے جو کہیں بھی سنجیدگی اختیار کرتی نظر ہی نہیں آرہی ہے۔ بجلی کے بحران کو ختم کرنے اور لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لئے حکومت کی طرف سے نئے پروجیکٹس تو شروع کئے گئے ہیںمگر ان کی مدت بہت لمبی ہے، فوری طور پر لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لئے کوئی خاص انتظامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔

Continue reading

Posted in Energy | Leave a comment

آئی ٹی سکیورٹی ملکی خودمختاری کےلئے ضروری

سید محمد عابد

ترقی کی اس دوڑ میں انفورمیشن ٹیکنولوجی نے زندگی میں خاص اہمیت حاصل کرلی ہے۔ گزشتہ ادوار میں تمام خفیہ معلومات کو کاغذی شکل میں درازوں اور الماریوں میں رکھا جاتا تھا مگر اب دور بدل چکا ہے اور اس دور میں تمام خفیہ دستاویزات اور معلومات کو الیکٹرونک دستاویز بنا کر کمپیوٹر یا پھر ای میلز میں رکھا جاتا ہے۔ان خفیہ معلومات کو حاصل کرنے کے لئے ہیکرز اپنے ہیکنگ آئی ڈی کا استعمال کرتے ہیں، اس لنک کو کھولتے ہی تمام معلومات ہیکر کو مل جاتی ہیں اور بعض اوقات یہ ہیکر ویب سائٹس پر قابض بھی ہو جاتے ہیں۔ ایسے جرائم پیشہ افراد عام یا خاص لوگوں کی خفیہ دستاویزات کے ذریعے ان کی جائیداد اور دولت پر بھی قبضہ کرلیتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر جان جرائم کو سائبر کرائمز کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، ان سائبر کرائمز کے باعث روزانہ لاکھوں افراد اپنی قیمتی معلومات سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

Continue reading

Posted in information technology | Tagged | Leave a comment

رابطوں کا نیا جہاں


سوشل میڈیا سے مراد وہ میڈیا ہے جو انٹرنیٹ ایپلیکیشنزاور موبائل ٹیکنولوجی کے ذریعے معلومات اور خبروں کا پھیلاﺅ کرتا ہے۔ گزشتہ دور میں خبروں اور دیگر معلومات کے لئے ٹی وی اور ریڈیو کا سہارا لینا پڑتا تھا مگر اب نئی ٹیکنولوجی کے ذریعے خبروں کا تبادلہ باآسانی انٹرنیٹ بلوگز، سماجی روابط کی ویب سائٹس اور موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی ان نئی اقسام کے ذریعے عوام اپنے جذبات کا باآسانی اظہار کر سکتی ہے۔ لوگ اس قسم کے میڈیا پر اعتماد کرتے ہیں اور ہر ایک کو کھل کر اپنے جذبات کے اظہار کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ نیوز لیٹرز، بلاگز، آڈیو ویڈیو شئیرنگ ویب سائٹس، سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

Continue reading

Posted in information technology | Leave a comment

مائیکروہائیڈل وقت کی ضرورت

پاکستان بجلی کی کمی کا شکار ہے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ عام ہے۔ ملک کے تقریباً تمام علاقوں میں ہی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ ہر مہینے دو مہینے بعد حکومتی بیان سننے میں آتا ہے کہ رواں سال کے فلاں مہینے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کر دی جائے گی اور پھرکوئی نئی وجہ بتا دی جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہماری حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے، چند بڑے پروجیکٹس پر کام کیا جا رہا ہے لیکن ان پروجیکٹس کو پایہ تکمیل تک پہنچنے میں ابھی بہت وقت درکار ہے اور فوری لوڈشیدنگ کو قابو کرنا بہت مشکل ہے۔ ہم کب تک لوڈشیڈنگ برداشت کریں گے؟ اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہمیں اپنی مدد آپ کے تحت ہی کام کرنا ہو گا۔ کوئی دوسرا ہماری مدد کو آئے یا نہ آئے ہمیں خود اس قابل ہونا ہوگا کہ ہم ہر مصیبت کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔ دنیا میں صرف وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنا جانتی ہیں۔ ایسے ہائیڈرو پاور پلانٹس جو ایک ہزار کلو واٹ سے کم بجلی پیدا کرتے ہیں انہیں منی ہائیڈرو پاور پلانٹس کہا جاتا ہے جبکہ ایک سو کلو واٹ سے کم بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو مائیکرو ہائیڈرو پاور پلانٹس کہا جاتا ہے۔

Continue reading

Posted in Energy | Tagged | Leave a comment

باغبانی: ایک مفید کاروبار

ہورٹیکلچر سے مراد پھولوں اورپودوں کی باغبانی ہے۔ پھول خوبصورتی کے لئے لگائے جاتے ہیں اور ان سے ماحول کی خوبصورتی اور تازگی میںبھی اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا میں پھولوں، درختوں اور بیلوں کے ذریعے ایسے شاندار شاہکار بنائے گئے ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ امریکہ اور افریقہ کے مختلف شہروں میں پھولوں اور درختوں کے ذریعے بادشاہوں، شاعروں اور تاریخی شخصیات کے مجسمے بنائے گئے ہیں جو انتہائی دلکش اور دیدہ زیب ہیں، یقینا ان فن پاروں کو بنانے کے لئے بہت محنت کی گئی ہے۔باغبانی ایک قدم اور اچھا مشغلہ ہے اور لوگ اسے سالوں سے اپنائے ہوئے ہیں۔ پھول، پودے اور درخت انسان کے لئے خاص اہمیت رکھتے ہیں، طبعیت کی خوشگواری میں پودوں اور پھولوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ لوگ باغات کی خوبصورتی کے لئے پھول اور پودے جبکہ پھل کے لئے درخت لگایا کرتے ہیں۔ لوگ عموماً اپنے گھر کے باغ اور سبزے میں پھولوں اور درختوں کو لگاتے ہیں۔

Continue reading

Posted in Agriculture | Tagged | Leave a comment

پاکستان اور توانائی کے ذخائر

پاکستان دنیا کے ایک ایسے حصہ میں واقع ہے جہاں قدرت کی طرف سے دیئے گئے انمول خزانے موجود ہیں۔ پاکستان کوخدا تعالیٰ نے بے شمار تحائف سے نوازا ہے۔

پاکستان کے صوبے اپنی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔
پنجاب کی زمین بہت زرخیز ہے
اسی لئے یہ غذائی پیداوار کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے جبکہ سندھ قدرتی گیس اور معدنی ذخائرکے لحاظ سے جانا جاتا ہے۔ سندھ میں موجودساحل سیاحوںکواپنی طرف کھنچتا ہے جبکہ سرحداور بلوچستان برف کے پگھلاﺅ،پہاڑ، جنگلات اورقدرتی وسائل کےاعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔یہاں پر موجود قدرتی مناظر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں جو دل کوچھوجاتا ہے، سیاح اپنے ماحول کو بدلنے کے لئے اسی طرف کا رخ کرتے ہیں ۔بلوچستان میں توانائی کے ذخائر موجود ہیں ان میں گیس، جپسم اورکوئلہ قابل ذکر ہیں۔
Posted in UnCatagarized | Leave a comment

متبادل توانائی کا استعمال کیسے کیا جائے

تحریر: سید محمد عابد

پاکستان توانائی کے مسائل میں شدیدطرح الجھا ہوا ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے ہمارے پاس 
تقریباً تمام قدرتی وسائل موجود ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ 
ہم پریشانیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ خدا نے انسان کو عقل دی ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے وہ نہایت پیچیدہ مسائل کو حل کر سکتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم توانائی کے متبادل کا انتخاب نہیں کررہے؟ ہمارے ملک میں متبادل توانائی پالیسی ترتیب کیوں نہیں دی جا رہی؟
ہاں یہ درست ہے کہ پاکستان پانی، گیس اور تیل کی کمی کا شکار ہے اور ان تمام ذرائع سے بجلی کی ضروریات کو پورا نہیں کیا جا سکتا مگر ہم سورج کی کرنوں، ہوا اور دیگر ذرائع سے توانائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ہمارا ملک دنیا کے اس خطے میں واقع ہے جہاں سورج کی کرنیں اوسطً نو سے دس گھنٹے پڑتی ہیں۔ ہم ان سورج کی کرنوں سے توانائی پیدا کر سکتے ہیں۔ سورج کے ذریعے حاصل کی جانے والی توانائی کو شمسی توانائی کہا جاتا ہے۔ شمسی توانائی خدا کا ایک انمول تحفہہے، اگرچہ شمسی توانائی پانی کی نسبت زیادہ طاقت ور نہیں مگر پھر بھی اس سے توانائی کا بڑا حصہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسپین کے علاقے نیورا جہاں توانائی کے روایتی ذرائع نہ ہونے کے باوجود بجلی کی ساٹھ سے ستر فی صد ضرورت کو شمسی توانائی سے پورا کیا جاتا ہے شمسی توانائی کے بہترین استعمال کی بہترین مثال ہے۔
وزارت بجلی وپانی کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی سے انتیس لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، شمسی توانائی کے استعمال پر زور کیوں نہیں دیا جا رہا۔ شمسی توانائی دیگر تمام ذرائع کی نسبت آلودگی سے پاک ہے۔ کوئلے ، گیس اور تھرمل سے حاصل ہونے والی توانائی سے گرین ہاﺅس گیسز کا اخراج ہوتا ہے جبکہ شمسی توانائی ایسی کوئی گیسز کا اخراج نہیں کرتی جو کہ ماحول کی خرابی کا باعث ہوں۔
لوڈشیڈنگ کے باعث زیادہ استعمال ہونے والے یو پی ایس سے دو سے چار گنا اضافی بجلی استعمال ہوتی ہے جس کی ادائیگی ہمیں بجلی کے اضافی بل کی صورت میں کرنی پڑتی ہے۔یوپی ایس کی نسبت شمسی پینل کو لگوانے سے اضافی بل کی ادائیگی سے بچا جا سکتا ہے ۔ شمسی پینل ایک دفعہ کا خرچا ہے اور اس کی مدت کم سے کم بیس سال ہے اس دوران دو سے چار سال بعد صرف انونٹر کو تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے توانائی کی ضروریات کے پیش نظر شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا ہے۔ دہلی کے نزدیک گوالی پہاڑی میں سورج سے بجلی کی توانائی حاصل کرنے کے لیے ایک بجلی گھر بنایا گیا ہے جہاں پیداوار اور تحقیقی کام کیے جا رہے ہیں۔ بھارت کے دیگر حصوں میںفوٹو وولٹالک سنٹرز قائم کیے جا چکے ہیں جو ایک کلوواٹ سے ڈھائی کلوواٹ تک بجلی پیدا کرتے ہیں۔ گھروں، کارخانوں، ہوٹلوں اور اسپتالوں میں پانی گرم کرنے کے لیے ایسے آلات لگے ہیں جوایک سو لیٹر سے لے کر سوا لاکھ لیٹر تک پانی گرم کر سکتے ہیں۔ بھارت شمسی توانائی سے ایک فیصد سے بھی کم بجلی پیدا کرتا ہے۔
توانائی کا ایک اور متبادل ہوا بھی ہے ۔ دنیا کے بیشتر ممالک ہوا سے توانائی حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں امریکہ، جرمنی، فرانس، چائنہ، اٹلی، اسپین، پرتگال اور انڈیا شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہوا سے پچاس ہزار میگا واٹ بجلی با آسانی پیدا کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے ساحلی علاقوں کا موسم ہواسے توانائی پیدا کرنے کے لئے بہترین ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ساحلی پٹی میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے امکانات روشن ہیں۔
ہو اسے توانائی یعنی ونڈ انرجی سے توانائی کا حصول حکومتی توجہ کا منتظر ہے۔ ہوا کی کم از کم دو سے تین کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو ونڈ انرجی کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے جو خوش قسمتی سے کراچی، ٹھٹھہ، کوئٹہ ، جیوانی، حیدرآباد، بلوچستان کی ساحلی پٹی، صوبہ سرحد کی چند شمالی وادیوں اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں ہوا کے ذریعے تقریباً تین ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔
اس وقت جرمنی ہواسے اٹھارہ ہزار میگا واٹ، اسپین آٹھ ہزار میگاواٹ ، امریکہ سات ہزار میگاواٹ جبکہ بھارت تیرہ ہزار سے زائد بجلی پیدا کررہا ہے۔ شمسی توانائی کی طرح ہوا یعنی ونڈ انرجی بھی ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہے اور اس سے ماحول آلودہ نہیں ہوتا۔
میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ہوا سے چلنے والے ٹربائنوں کا دنیا کا سب سے بڑا پراجیکٹ برطانیہ میں مکمل ہوا ہے۔ رودبار انگلستان کے ساحلی علاقے کینٹ میں قائم کیے جانے والے تھانٹ ونڈ فارم میں ایک سو انتہائی طاقت ور ٹربائن لگائے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں سے حاصل ہونے والی بجلی دولاکھ سے زیادہ گھروں کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو گی۔ اکثر ساحلی علاقوں میں زیادہ تر تیز ہوائیں چلتی رہتی ہیں جن کی مدد سے بجلی پیدا کرنے والے ٹربائن باآسانی چلائے جاسکتے ہیں۔ پاکستان کی ساحلی پٹی میں اس طرح کے منصوبوں کے لیے بڑی گنجائش موجود ہے جس سے لاکھوں گھروں کو توانائی فراہم کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا ہمیں توانائی کے اس متبادل ذریعے سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے۔
یو ایس ایڈ کے تعاون سے پاکستان میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق ملک میں ہوا سے تین لاکھ چھیالیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔اس وقت پاکستان توانائی کے سخت بحران کا شکار ہے اور صنعتیں بند ہونے سے سینکڑوں مزدور روزگار سے محروم ہیں جبکہ ملک بھر میں پندرہ سے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع کو استعمال میں لاکر ہی توانائی کے بحران سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔

http://www.technologytimes.pk/2011/05/21/%D9%85%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84-%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D8%A6/

Posted in UnCatagarized | Leave a comment

آئی ٹی کی دنیا میں نئی ٹیکنولوجی

تحریر:سید محمد عابد

انٹرنیٹ نے انسان کے لئے رابطوں کو آسان بنا دیا ہے، اب ایک یا دو دن ضائع کئے بغیر چند ہی سیکنڈز میں بذریعہ ای میل، فیکس یا چیٹ باآسانی پیغامات پہنچائے جا سکتے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں نسل انفورمیشن ٹیکنولوجی کے شعبے میں خوب دلچسپی لے رہی ہے اور اسی وجہ سے دنیا میں پاکستان سے نیا ٹیلنٹ ابھر رہا ہے جس کی بہترین مثال چند سال قبل پاکستان کے ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والا چودہ سالہ بابر اقبال ہے۔ اس کم عمر لڑکے نے چار عالمی ریکارڈ قائم کئے اور اب وہ مائیکروسوفٹ کی طرف سے امریکہ میں تعلیم حاصل کررہا ہے۔
پاکستان انفورمیشن ٹیکنولوجی کی دنیا میں مزید بہتر مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل انفورمیشن ٹیکنولوجی پر زیادہ انحصار کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال میں ہر سال گیارہ عشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ساڑھے چار لاکھ کمپیوٹرز کا کاروبار ہوتا ہے۔ گزشتہ دس سال کے دوران پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں تیس سے پینتیس فیصد اضافہ ہوا ہے ۔
Continue reading

Posted in UnCatagarized | 4 Comments

کلاﺅڈ کمپیوٹنگ، سستی اور آسان ٹیکنولوجی

تحریر: سید محمد عابد

کلاﺅڈ کمپیوٹنگ سے مراد ایسی ٹیکنولوجی ہے جو انٹرنیٹ کو ڈیٹا اور اپلیکیشنز محفوظ کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ کلاﺅڈ کمپیوٹنگ استعمال کنندگان اور کاروباری لوگوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے بغیر کسی تنصیب کے کسی بھی کمپیوٹر پر ایپلیکیشنز استعمال کرنے کی سہولت مہیا کرتا ہے۔ اس ٹیکنولوجی کی بدولت انٹرنیٹ پر لامحدود تعداد میں ڈیٹا کو محفوظ کیا جا سکتا ہے اور روزانہ بڑی تعداد میں صارفین کلاﺅڈ کمپیوٹنگ کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ کلاﺅڈ کمپیوٹنگ کی مثال میلنگ سروسز فراہم کرنے والے اداروں جیسے گوگل، مائیکروسوفٹ اور یاہو سے لی جا سکتی ہے۔ ان سروسز کو استعمال کرنے کے لئے کسی بھی قسم کے سوفٹ ویئر کو انسٹال کرنے یا سرور کی ضرورت نہیں پڑتی، تمام لوگ کسی بھی عام کمپیوٹر سے انٹرنیٹ کے ذریعے ای میلز کو موصول اور بھیج سکتے ہیں۔
کلاﺅڈ کمپیوٹنگ کے تحت سو فٹ وئیر بطور سروس، خدمات فراہم کرنے والا ایک پروگرام یا سوفٹ وئیر اپلیکیشن بناتا ہے، اس کو کسی ڈیٹا سنٹر پر ہوسٹ کرتا ہے اور انٹرنیٹ پر موجود ہزاروں صارفین کو یہ مہیا ہو جاتا ہے۔ صارف اس کو برائوزر کی مدد سے استعمال کرسکتا ہے۔ اسکی مثال اگر ہم ورڈ پروسیسنگ اپلیکیشن کی لیں تو گوگل ڈوک، ایڈوب کا بزورڈ، ایجکس رائٹ، ڈوکلی اور گلائیڈ رائٹ ہیں۔
Continue reading
Posted in UnCatagarized | Tagged | 2 Comments

شمسی توانائی ایک نعمت

شمسی توانائی خدا کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، دھوپ سے حاصل ہونے والی توانائی سولر انرجی یا شم سی توانائی کہلاتی ہے۔ دھوپ کی گرمی کو پانی سے بھاپ تیار کرکے جنریٹر چلانے اور بجلی بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سورج اپنی توانائی ایکسرے سے لے کر ریڈیو ویو کے ہر ویو لینتھ پر منعکس کرتا ہے۔ اسپکٹرم کے چالیس فیصد حصے پر یہ توانائی نظر آتی ہے اور پچاس فیصد شمسی توانائی انفرا ریڈ اور بقیہ الٹرا وائلٹ کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم جس چیز کی طلب کررہے ہوتے ہیں وہ ہمارے پاس ہی ہوتی ہے مگر اس کی طرف دیر سے متوجہ ہوتے ہیں۔ شمسی توانائی بھی انہی چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔
اگر ہم آج سے دو چار سال پہلے ہی شمسی توانائی سے بجلی کے حصول پر کام شروع کر دیتے تو دور حاضر میں بجلی کے بحران کا شکار نہ ہوتے۔ ہمارے ملک کا شمار دنیا کے ان خوش نصیب ممالک میں ہوتا ہے جہاں سورج کی کرنیں زیادہ دیر تک پڑتی ہیں۔ پاکستان سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں ڈھائی سو سے لے کر تین سو بیس دنوں تک سورج کی دھوپ سے توانائی کی پیداوار کو یقینی بنا سکتا ہے۔ سورج کی کرنیں قدرت کا وہ عطیہ ہیںجو توانائی کے حصول کے لئے مفید ہیں۔ دیگر ذرائع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی کرنوںسے چھتیس گنا زیادہ توانائی حاصل ہوسکتی ہے، شمسی توانائی کے بغیر زمین پر زندگی ممکن نہیں۔ دنیا میں شمسی توانائی کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ان دو اقسام میں سولر تھرمل اور سولر فوٹو وولٹائی (سولر پی وی) شامل ہیں۔۔۔ Continue reading
Posted in UnCatagarized | Tagged | Comments Off

شمسی توانائی ایک نعمت۔۔۔۔۔حصہ آخر

تحریر: سید محمد عابد

دنیا بھر میں سورج کی روشنی سے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ اسپین کے علاقے نیورا میں بجلی کی ستر فی صد ضرورت کو شمسی توانائی اور پن بجلی کی مدد سے پورا کیا

جا رہا ہے۔ اس علاقے میں کوئلے، گیس یا تیل کے ذخائر بالکل نہیں ہیں اس کے باوجود یہاں شمسی توانائی کے ذریعے بلا تعطل بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ علاقہ متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنے کی بہترین مثال ہے۔ اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایسے علاقے میں بجلی کی پیداوار ممکن ہے تو پاکستان میں بھی شمسی توانائی سے بجلی کے پیدواری مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔اگر پاکستان شمسی توانائی کے استعمال پر توجہ دے تو ہم دن میں شمسی توانائی اور رات میں گرڈ سسٹم کی بجلی کے استعمال کے ذریعے نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پا سکتے ہیں بلکہ بجلی کو ذخیرہ بھی کر سکتے ہیں۔ یعنی دن کے وقت پہلے شمسی توانائی اس کے بعد بیٹری اور پھر گرڈ سسٹم پر انحصار کیا جائے اور رات کے وقت گرڈ سسٹم اور بیٹری سے کام چلایا جائے۔ اس بات کو یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ سب سے پہلے شمسی توانائی کو براہ راست بجلی کے لئے استعمال کیا جائے جب شمسی توانائی سے بجلی کا حصول مشکل ہو تو بیٹری کا استعمال کیا جائے اور جب بیٹری سے بھی کار آمد نہ ہو تو پھرگرڈ سسٹم کی بجلی کااستعمال کیا جائے جبکہ رات کو بیٹری اور گرڈ سسٹم کا استعمال کیا جائے۔ اس طرح لوڈشیڈنگ بھی ختم ہو جائے گی اور ملکی توانائی پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔
Continue reading

Posted in UnCatagarized | Tagged | 2 Comments

شمسی توانائی ایک نعمت

حصہ اول

تحریر:سید محمد عابد

شمسی توانائی خدا کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، دھوپ سے حاصل ہونے والی توانائی سولر انرجی یا شمسی توانائی کہلاتی ہے۔ دھوپ کی گرمی کو پانی سے بھاپ تیار کرکے جنریٹر چلانے اور بجلی بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سورج اپنی توانائی ایکسرے سے لے کر ریڈیو ویو کے ہر ویو لینتھ پر منعکس کرتا ہے۔ اسپکٹرم کے چالیس فیصد حصے پر یہ توانائی نظر آتی ہے اور پچاس فیصد شمسی توانائی انفرا ریڈ اور بقیہ الٹرا وائلٹ کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم جس چیز کی طلب کررہے ہوتے ہیں وہ ہمارے پاس ہی ہوتی ہے مگر اس کی طرف دیر سے متوجہ ہوتے ہیں۔ شمسی توانائی بھی انہی چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔اگر ہم آج سے دو چار سال پہلے ہی شمسی توانائی سے بجلی کے حصول پر کام شروع کر دیتے تو دور حاضر میں بجلی کے بحران کا شکار نہ ہوتے۔ ہمارے ملک کا شمار دنیا کے ان خوش نصیب ممالک میں ہوتا ہے Continue reading
Posted in UnCatagarized | Tagged | 3 Comments

بوند بوند پانی

تحریر:سید محمد عابد

پانی انسان کے لئے خدا کی طرف سے فراہم کردہ عظیم نعمت ہے، پانی کے بغیر انسان کا زندہ رہنا مشکل ہے۔ انسان جب پانی پیتا ہے تو اسے سکون محسوس ہوتا ہے۔ دنیا کے تمام انسان، چرند، پرند، جانور اورپودوں کی نشوونما کے لئے پانی لازمی ہے۔ پانی جہاں زرعی اجناس کی پیداوار کے لئے ضروری ہے وہیں پانی سے بجلی کی پیداوار بھی حاصل کی جاتی ہے۔ پانی انسانوں کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ آکسیجن۔۔۔ خدا نے انسان کو آگ، پانی، ہوا اور مٹی سے پیدا کیا، اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پانی انسان کے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ انسانی جسم کا دو تہائی حصہ پانی پر مشتمل Continue reading
Posted in UnCatagarized | Tagged | 2 Comments

تیل دار اجناس کی کاشت

سید محمد عابد

پاکستان کے پاس خدا کی طرف سے عطاءکردہ زرخیز زمین موجود ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کماسکتے ہیں۔ پاکستان کی ساٹھ سے ستر فیصد آبادی زراعت کے پیشے سے منسلک ہے۔پاکستان اپنی فصلوں کے بل بوتے پردنیا میں راج کر سکتا ہے۔ ہمارے ملک پاکستان کی زرعی اجناس دنیا کے بیشتر ممالک کو فروخت کی جاتی ہیں، ان میں کپاس، چاول، چینی اور دوسری اشیاءشامل ہیں۔ پاکستانی چاول دنیا کے بیشتر ممالک کے عوام پسند کرتے ہیں۔ پاکستان میں متعدد اقسام کی تیل دار اجناس بھی کاشت کی جاتی ہیں مگر ان کی مقدار ملکی خوردنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔

Continue reading

Posted in UnCatagarized | 1 Comment

ٹیکنولوجی، انسانی زندگی کا حصہ

سید محمد عابد

جدید دور میں ٹیکنولوجی نے ایک خاص مقام حاصل کر لیا ہے، دنیا جیسے جیسے ترقی کرتی جا رہی ہے مشینری کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات مثلاً زراعت، توانائی، تجارت، سفر اور رابطوں کے لئے ٹیکنولوجی نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ فصلوں کی فی من ایکڑ پیداوار کو بڑھانے کے لئے مختلف اقسام کی ٹیکنولوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ٹیکنولوجی کی بدولت توانائی کی پیداوار کے لئے جدیدنیوکلر اورشمسی توانائی کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔ جدید دور کے انٹرنیٹ نے کاروباری لین دین کو آسان بنا دیا ہے۔ ابتداءمیں انسان جانوروں پرسفرکرتے تھے مگر اب وہی انسان ٹیکنولوجی کے ذریعے جدید گاڑیوں، بسوں، ٹرینوں اور ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ ٹیکنولوجی کے ذریعے آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ بہت آسان ہو گیا ہے۔ ہم انٹرنیٹ کے ذریعے سے پیغامات کو ایک سیکنڈ میں میلوں دوربھیج سکتے ہیں۔ٹیکنولوجی نے دوریوں اور فاصلوں کوختم کر دیا ہے۔صنعتیں پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، پاکستان برآمدات کا 68 فیصد حصہ ٹیکسٹائل کی صنعت سے حاصل کرتا ہے جو کہ برآمدات کا ایک بڑا حصہ ہے۔ ٹیکنولوجی کی بدولت انڈسٹریز کے نتائج میںبہتری آ رہی ہے۔

Continue reading

Posted in UnCatagarized | 1 Comment

موبائل ٹیکنولوجی اور انٹرنیٹ کا استعمال

سید محمد عابد

پاکستان میں موبائل فون سروسز اور ٹیکنولوجی کی آمدسنہ نوے کی دہائی میں ہوئی جب پاک ٹیل اور انسٹا ون کمپنی نے ایمس سیٹس کے ذریعے موبائل سروسزکی فراہمی شروع کی۔ پاکستان میںموبائل فونز کا استعمال ابتداءمیں بہت کم تھا جس کی سب سے بڑی وجہ ایس ایم ایس اور کال ریٹس کے علاوہ بے تہاشہ ٹیکسز تھے، بہت کم لوگ تھے جنہوں نے موبائل فون رکھا ہوا تھا۔ موجودہ دور میں موبائل فون سروسز ابتداءکی نسبت اب بہت سستی ہیں، کمپنیز نے ایس ایم ایس اور کال پیکجز متعارف کروا دیئے ہیں جن کے باعث ایس ایم ایس اور کال ریٹس بہت سستے پڑتے ہیں۔ موبائل فون سروسز کا آغاز کرنے والی کمپنی انسٹاون پاکستان میں اپنا بزنس ختم کرچکی ہے جبکہ پاک ٹیل چائنہ کی کمپنی زونگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کمپنیز کے بند ہونے کی وجہ ایمس سیٹس کے استعمال کا پاکستان میں ختم ہو گیا ہے۔ پاکستان نے موبائل ٹیکنولوجی میں گزشتہ دس سالوں میںاچھا خاصا مقام حاصل کر لیا ہے۔

Posted in UnCatagarized | 1 Comment

آن لائن قبرستان

سید محمد عابد

انسان انفورمیشن ٹیکنولوجی کی دنیا میں بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ پہلے انسان صرف انفورمیشن ٹیکنولوجی کا استعمال زندہ لوگوں دیکھنے اور ان سے بات کرنے کے لئے کرتا تھا مگر اب مردہ لوگوں کی قبر کو دیکھنے اور فاتحہ خوانی کرنے کے لئے بھی انفورمیشن ٹیکنولوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ آپ اگر کسی وجہ سے اپنی کسی عزیز کی قبر پر نہ آ سکے ہوں تو اس قبر کو آن لائن دیکھا اور فاتحہ خوانی کی جا سکتی ہے، آن لائن قبر کو دیکھنے کے لئے صرف قبر کا نمبر یانام درکار ہو تا ہے ۔ پاکستان میں سب سے پہلاآن لائن قبرستان میں سپر ہائی وے کراچی پر واقع ہے اور اس کا نام وادیِ حسین قبرستان ہے۔ اس آن لائن طرز کے قبرستان کی بنیاد دو بھائی شیخ سخاوت علی اور شیخ یاور علی نے 1999ءمیں رکھی۔ قبرستان کو بنانے کا خےال مرحوم حاجی محمد یوسف نقوی کا تھا۔ سب سے پہلے ان ہی کے Continue reading
Posted in UnCatagarized | 3 Comments

گندم کے گودام

سید محمد عابد

ہمارے ملک میں گندم کی پیداوار کثرت سے ہوتی ہے،ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں گندم کی کل سالانہ پیداوار تقریباً بائیس ملین ٹن ہے جو کہ ملکی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہے اس کے باوجود عوام کو آٹے کابحران جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوام کو آٹے کے حصول کے لئے یوٹیلٹی اسٹورز کے باہر قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے جبکہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ان اسٹورز کے باہر آٹے کی فراہمی کے دوران بھگدڑ مچ گئی اور متعدد لوگوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں کئے جانے Continue reading
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

گنے کی بہترین پیداوار، چینی کا بحران کیوں؟

سید محمد عابد

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی 60 سے 70 فیصد آبادی زراعت کے پیشے سے منسلک ہے کیونکہ زرعی ملک میں آٹے یا چینی کے بحران مشکل سے پیدا ہوتے ہیںجبکہ ہمارے ملک میں ہر سیزن میں یہ رونا رو یا جاتا ہے کہ ملک میں گنے یا گندم کی پیداوار کم ہوئی ہے جس کے باعث چینی یا آٹے کے بحران کا خدشہ ہے۔

یہ سب کیا ہے؟ کبھی چینی کے لئے قطار میں لگنا پڑتا ہے تو کبھی آٹے کے لیے۔۔۔ ہمارا ملک زرعی ہے اور دنیا میں گنا پیدا کرنے والا چوتھا ملک کہلایا جاتا ہے، پاکستان ایک ملین ہیکٹر رقبے پر گنے کی کاشت کرتا ہے پھر یہ بحران کیوں۔ آخر کیا وجہ ہے جو ملک اتنی پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔ کیا عوام پاکستان میں صرف بحرانوں کو دیکھنے کے لئے ہی رہ گئی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں سوچ کر ہر انسان پریشان ہو جاتا ہے۔
Continue reading

Posted in UnCatagarized | Leave a comment

سبزیوں کی گھریلو سطح پر کاشت کارآمد

سید محمد عابد

سبزیاں انسان کی اہم غذا ہے۔ انسان زمانہ قدیم سے ہی سبزیوں کو بطور خوراک ا ستعما ل کر رہا ہے۔ سبزیاں انسان کی صحت کے لئے سخت ضروری ہیں کیونکہ یہ بیماریوں سے بچاتی ہیں۔ سبزیوں میں موجود وٹامنز اور معدنیات انسان کو صحت اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔ دنیا کی 80 فیصد آبادی سبزیوں کو خوراک کے طور پر آج بھی استعمال کر رہی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی متعددسبزیوںکی کاشت کی جاتی ہے ۔ پاکستان میں مختلف سبزیوں مثلاً مٹر، پالک، گوبھی، کھیرا، شلجم، بینگن، لوکی، Continue reading

Posted in UnCatagarized | 1 Comment

حساب کتاب کے سافٹ ویئرز

سید محمد عابد

اکاﺅنٹنگ جدید دورکالفظ ہے جس کے معنی ہیں کاروبار کی زبان جس کو ہم کاروباری معاملات کو محفوظ کرنے کا نام بھی کہ سکتے ہیں۔ یہ ایک نام ہے جس کی بدولت ہم اپنے کاروباری مالیاتی نتائج کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اکاﺅنٹنگ بینکوں، مالیاتی تجزیہ نگاروں، ماہرین اقتصادیات، اور حکومتی اداروں کو ممکنہ شراکت داروں ، قرض دہندہ اور دوسرے مالیاتی نتائج فراہم کرتا ہے۔ اگر اکاﺅنٹس نہ ہوتا تو حساب کتاب کے معاملات کو حل کرنا بہت مشکل ہو جاتا۔
زمانہ قدیم میں لوگ کاروبارکے حساب کتاب کے لئے کاغذی کھاتوں کا استعمال کیا کرتے تھے۔ کوئی بھی چیز بیچنے، خریدنے، ادھار اور پیسوں میں چھوٹ کے لئے کاغذی کھاتوں Continue reading
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

تھری جی ٹیکنولوجی، ٹیلی کوم سروسز کی جانب قدم

سید محمد عابد

یہ دور انفور میشن ٹیکنولوجی کا دور ہے اور اس دور میں ترقی وہی ملک کر سکتا ہے جو انفارمیشن ٹیکنولوجی کے میدان میں آگے ہو۔ انٹرنیٹ اور موبائل فونز رابطوں کا ذریعہ ہوتے ہیں اور ان کی بدولت دوریاں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔ ماضی میں دور رہنے والے عزیز اوررشتہ داروں سے باتیں کرنے کے لئے انسان کو خط وکتابت اور کبوتر بازی کا سہارا لینا پڑتا تھا مگر اب دور جدید میں انفورمیشن ٹیکنولوجی کی بدولت عزیز و اقارب سے ای میلز، فون کالز یا پھر ویڈیو چیٹ کر کے بات کی جا سکتی ہے اور اس طرح یہ تسلی بھی ہو جاتی ہے کہ پیغام پہنچنے والے کو پہنچ گیا ہے۔ ماضی میں جو کام کرنے کے لئے سال لگ جاتے تھے آج وہ کام آئی ٹی کی بدولت مہینوں میں ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ اسی اور نوے کی دہائی تک اس قدر پسماندہ تھا کہ نیا فون کنکشن لینے کے لئے کئی سال پہلے درخواست دینا پڑتی تھی اور بعض اوقات تو Continue reading

Posted in UnCatagarized | Leave a comment

لائیوسٹاک کی ترقی :وقت کی اہم ضرورت

سید محمد عابد

پاکستان کیونکہ شروع ہی سے زرعی ملک ہے اور آزادی سے پہلے پاکستان کے حصہ میں آنے والے علاقوں میں بھی زراعت پر خاص توجہ دی جاتی تھی اسی لئے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے جب بھی بات کی جائے تو زراعت کا نام ضرور آتا ہے۔ پاکستان کی ۰۸ فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے خصوصاَ پنجاب کے
علاقوں میں لوگوں نے زراعت کو اپنا پیشہ بنا رکھا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بیرونی سطح پر کیے جانے والے کاروبار میں بھی زراعت اور مال مویشیخاص اہمیت کے حامل ہیں۔ لوگ گائے، بھینسیں اور بکریاں وغیرہ پال کر ان کا دودھ فروخت کرتے ہیں۔ کیونکہ پنجاب میںمال مویشی پالنے والے افراد پڑھے لکھے نہیں ہیں اس لئے ان لوگوں کا ذریعہ آمدنی بھی صرف اسی پر ہے۔
Continue reading
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

انفورمیشن ٹیکنولوجی کا پاکستان میں کردار

کمپیوٹر ایک ایسی مشین ہے جس کی مدد سے اس دنیا کی بیشتر مشکلات با آسانی حل ہو گئیں۔ کمپیوٹر کے وجود کے بارے میں بات کی جائے تو 1940ءمیں ایک شخص جس کا نام ایلن ٹیورنگ تھا، اس نے ایک مشین کا نام رکھا جو کہ کمپیوٹر تھا۔ پاکستان کے وجود میں آنے سے دو سال قبل 1945ءمیں پہلی نیٹ ورک مشین ایجاد ہوئی جس کانام پرسیپٹرون مارک ون تھا۔ 1960ءمیں پاکستان کے شہر کراچی میں کمپیوٹر کا استعمال شروع کیا گیا ،آخری دس سال کے دوران پاکستان میں کمپیوٹر کی تعداد میں 35 فیصد اضافہ ہواہے جو کہ اگلے دس سالوں میں بڑھ جائے گا۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ساڑھے چار لاکھ کمپیوٹرز کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ Continue reading
Posted in UnCatagarized | Leave a comment

پاکستان اور توانائی کے ذخائر

سید محمد عابد

پاکستان دنیا کے ایک ایسے حصہ میں واقع ہے جہاں قدرت کی طرف سے دیئے گئے انمول خزانے موجود ہیں۔ پاکستان کوخدا تعالیٰ نے بے شمار تحائف سے نوازا ہے۔ پاکستان کے صوبے اپنی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔ پنجاب کی زمین بہت زرخیز ہے اسی لئے یہ غذائی پیداوار کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے جبکہ سندھ قدرتی گیس اور معدنی ذخائرکے لحاظ سے جانا جاتا ہے۔ سندھ میں موجودساحل سیاحوںکواپنی طرف کھنچتا ہے جبکہ سرحداور بلوچستان برف کے پگھلاﺅ،پہاڑ، جنگلات اورقدرتی وسائل کےاعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔
یہاں پر موجود قدرتی مناظر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں جو دل کوچھوجاتا ہے، سیاح اپنے ماحول کو بدلنے کے لئے اسی طرف کا رخ کرتے ہیں ۔ Continue reading
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

زرعی ٹیکس اور زراعت کی تباہی

سید محمد عابد

پاکستان اور زراعت کا جھولی دامن کا ساتھ ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کی 70 فیصد سے ذائد آبادی اسی پیشے سے منسلک ہے اور پاکستان زراعت کی بدولت بیرونی منڈیوں سے حاصل ہونے والا زر مبادلہ بھی اچھا خاصا کما رہا ہے۔پاکستان سے حاصل ہونے والی فصلوں میں کپاس، گنا، گندم اور چاول وہ فصلیں ہیں جن کی بیرونی منڈیوں میں کثیر فروخت ہوتی ہے اور یہ پاکستان کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور دنیا کی مشہور فصلیں ہیں۔ پاکستان کے تحقیقی ادارے بھی ان Continue reading

Posted in UnCatagarized | 1 Comment

قدرتی ذخائر اور کرپشن

سید محمد عابد

خدانے انسانوں کو بیش بہا خزانوں سے نوازا ہے، یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ کس کوخزانہ دے۔ دنیا میں متعدد ممالک کے پاس قدرتی ذخائر موجود ہیں ۔ ان ذخائر میں کوئلہ، گیس، چاندی ، ہیرے ، سونا اور دیگر دھاتیں شامل ہیں۔ قدرتی ذخائر کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، ان ذخائر کا موئثر استعمال ملک کو ترقی کی جانب لے جاتا ہے جبکہ ذخائر کا ضیاع بربادی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ متعدد اقوام نے اپنے وسائل کا صحیح طور پر استعمال کیا اور ترقی ان کا مقدر بن گئی۔ ہمارے ملک پاکستا ن کا صوبہ سرحد اور بلوچستان قدرتی ذخائر سے مالا لال ہے۔ صوبہ سندھ میں تھر کے مقام پرکوئلے کا دنیا میں ساتواں بڑا ذخیرہ موجود ہے اور اس ذخیرے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے تیل کے ذخیرے سے بھی بڑا ذخیرہ ہے ۔ڈاکٹر ثمر مبارک کے مطابق تھر کول ذخائر کے ذریعے اگلے 500 سے 800 سال تک بجلی کی پیداوار ممکن ہے۔ Continue reading

Posted in UnCatagarized | 1 Comment

سیلابی تباہی اورمتاثرین کی آبادکاری

پاکستان کی تاریخ میں آنے والے سیلا بوں میں سب سے بڑا اور تباہ کن سیلا ب۸۲جولائی کو ہونے والی بارشوںکے نتیجہ میں بننے والے سیلا ب کو کہا جا رہا ہے ۔اس سیلاب میں ۷۱ ملین افراد تباہی کا شکا ر ہوئے،پنجاب،سندھ اور خیبرپختونخواہ کے پیشتر اضلاع میں نقصان ہوا۔اب تک قریبا ۰۰۰،۰۵۶ سے زیادہ لوگوں کے مقانات تباہ ہوئے ،بیش تر مقامات پر بستیوں اور شاہراہوںکانام ونشان تک مٹ چکا ہے۔سندھ سے آنے والے ریلے نے کراچی اور سندھ کو ملا نے والی شاہراہ کوتباہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق متعدد نقصانات میں ۰۵۶۱افراد کی اموات ہوئیں، تقریبا ایک بلین سے زیادہ مالیت کی فصلیں تباہ ہوئیں ، ۴ئ ۱ملین کابل کاشت رقبہ متاشر ہوا،بیشتر پاورپلانٹس کو سیلاب کی وجہ سے بند کرنا پڑا،ار بوں روپے کی مالیت کے مویشی بہ گئے جبکہ ۳۱ لا کھ سے زائد کپاس کی گانٹھیں تباہ ہوئیں۔ اس وقت آدھا پاکستان پانی میں ڈوبا ہوا ہے،پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخواہ کے بیشتر افرادپانی میں گھرے ہوئے ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

خوراک کے بحران سے کیسے بچا جائے؟

خوراک وہ لفظ ہے جس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا مشکل ہے ،اس کو پانے کے لیے اانسان اچھے اور برے دونوں طریقوں کا استعمال کرتا ہے۔ خوراک حاصل کرنے کےلئے انسان چوری بھی کرتا ہے اور دن رات کام بھی کرتا ہے۔ خدا نے انسان کے لیے خوراک کو ضروری کر دیا ہے۔ ہوا، پانی اور خوراک یہ تین ضروریات انسان کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ آج کل کے اس دور میں انسانوں کی زیادہ اموات کی وجہ بھی یہی ہے۔آج کل کا غریب جب اپنے لیے خوراک کا انتظام نہیں کر پاتا تو وہ مر جاتا ہے۔اس زمین پر انسان کو خدا کی عبادت کرنے کے علاوہ کام کاج کے لیے پیدا کیا ہے۔ چونٹی کو بھی خدا نے اتنی عقل دی ہے کہ وہ سمجھ داری کے ساتھ اپنی خوراک جمع کر لیتی ہے،خوراک پانے کے لیے چونٹی کو بھی محنت کرنی پڑتی ہے۔
Continue reading
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

بائیو ایندھن،توانائی کا ذریعہ

سید محمد عابد

بائیوایندھن، نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا ایندھن ہے جس کی تیاری کیمیائی اجزاءکی بدولت ہوتی ہے۔ بائیوایندھن مستقبل کا سب سے مشہور ایندھن ہے،مختلف ذخائر جیسے کوئلہ، تیل اور دوسرے ذخائر جلد ختم ہو سکتے ہیںمگر بائیوایندھن کو مختلف طریقوں سے بنایا جا سکتا ہے۔بائیوایندھن کوماحول دوست بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے استعمال سے خارج ہونے والی گیسز نقصان دہ نہیں ہوتیں۔بائیوایندھن کو گنے، درخت، پودے، سبزیوں کے تیل، جانوروں کی چربی اور متعددفصلوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ اس کا سب سے زیادہ استعمال برازیل اورامریکہ میں کیا جاتا ہے۔ برازیل میں 80 فیصد گاڑیوں کو بائیو ایندھن کی مدد سے چلایا جاتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق دنیا میں بائیوایندھن کے ذریعے گاڑیوں کا 1.8 Continue reading
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

پاکستان اور توانائی کے ذخائر

پاکستان دنیا کے ایک ایسے حصہ میں واقع ہے جہاں قدرت کی طرف سے دیئے گئے انمول خزانے موجود ہیں۔ پاکستان کوخدا تعالیٰ نے بے شمار تحائف سے نوازا ہے۔ پاکستان کے صوبے اپنی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔ پنجاب کی زمین بہت زرخیز ہے اسی لئے یہ غذائی پیداوار کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے جبکہ سندھ قدرتی

گیس ا ور معدنی ذخائرکے لحاظ سے جانا جاتا ہے۔
سندھ میں موجودساحل سیاحوںکواپنی طرف کھنچتا ہے جبکہ سرحداور بلوچستان برف کے پگھلاﺅ،پہاڑ، جنگلات اورقدرتی وسائل کے اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔
یہاں پر موجود قدرتی مناظر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں جو دل کو چھوجاتا ہے، سیاح اپنے ماحول کو بدلنے کے لئے اسی طرف کا رخ کرتے ہیں ۔ بلوچستان میں توانائی کے ذخائر موجود ہیں ان میں گیس، جپسم اورکوئلہ قابل ذکر ہیں۔
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

پاکستان میں دودھ کی پیداوار اور مہنگائی

پاکستان میں دودھ کی پیداوار پر خاصی توجہ دی جاتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ پاکستان دودھ کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر شمار کیا جاتا ہے۔بہترین دودھ کی پیداوار دینے والے ممالک میں ہندوستان، چین اور امریکہ کے بعد پاکستان کا نام شمارکیا جاتا ہے۔پاکستان میںدودھ کی بہتر پیداوار گاﺅں اور قصبوں میں پالی گئی گائیں، بھینس،ا ونٹ اور بکریوں کی بدولت حاصل ہوتی ہے۔پاکستان میں دودھ کی بہتر پیداوار کے لئے متعدد پراجیکٹس کا انعقاد کیا جا چکا ہے اور اس سے کافی فائدہ بھی ہوا ہے۔
ملک میں مویشیوں کی تعداد تقریباً 5 کروڑ ہے جن سے سالانہ دودھ کی پیداوار 45 بلین لیٹر لی جاتی ہے۔ ان جانوروں میں گائیں، بھینسیں، بھیڑیں، بکریاں اور اونٹوں شامل ہےں۔دودھ کی اس مقدار سے دہی،کھویا، پاکستان متعدد ممالک کو دودھ اور اس سے تیار کردہ مصنوعات بیچ کر زرمبادلہ کماتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر دودھ چھوٹے کسانوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور ان کسانوں کے پاس زیادہ سے زیادہ 6 سے 8 جانور ہیں، ملک کا برآمد کردہ دودھ میں سے97 فیصد دودھ چھوٹے گھرانوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ Continue reading

Posted in UnCatagarized | 1 Comment

پاکستان میں انفورمیشن ٹیکنولوجی کی تعلیم

Volume # 2, Issue #1
By Syed Muhammad Abid

ٹیکنولوجی دنیا میں تیزی سے پھیلتی ہوئی وہ ایجاد ہے جس کو دنیانے نہ صرف اپنایا بلکہ اس کو اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ بنا دیا۔ ٹیکنولوجی ہرقوم کے لئے اہم رہی ہے اورنوجوان نسل کے لئے زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ اس کے بغیر ترقی کرنا ناممکن ہے اور اس کو اپنانا یا سمجھنا بہت ضروری ہے۔ٹیکنولوجی کی بدولت متعدد کام نہ فقط آسان ہوگئے ہیں بلکہ اس کے علاوہ وقت کی بچت بھی اسی ٹیکنولوجی کی بدولت ہو رہی ہے۔پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے اسلئے عوام کی توجہ زراعت کی طرف ہی رہی ہے۔ ہماری نوجوان نسل کے علاوہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو کہ انفارمیشن ٹیکنولوجی سے واقف ہیں۔ٹیکنولوجی کی اس دنیا میں رہنے کے لئے ہماری نوجوان نسل کاٹیکنولوجی سے واقف ہونابہت Continue reading
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

کچھ اس طرف بھی دھیان دیں

پاکستان کو خدا تعالی نے بہت ہی خوبصورت موسم عطا کئے ہے۔ پاکستان میں چار موسم (گرمی، سردی، خزان، بہار) پائے جاتے ہیں، ان موسموں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں زراعت کو باآسانی فروغ دیا جا سکتا ہے اور اس طرح پاکستان میں پائی جانے والی فصلوں کو بیروں ممالک بیچ کر کثیر زرمبادلہ بھی حاصل ہو گا۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ موسم کا خاص خیال رکھا جائے یعنی سردیوں میں نشوونما پانے والی فصلوں کو سردیوں میں اورگرمی میں نشوونما جانے والی فصلوں کو گرمیوں میں بویا جائے، تب ہی ہمیں اچھی فصل مل سکے گی۔ظاہر ہے ملک میں جب اچھی اور کثیر تعداد میں فصل کی پیداوار ہو گی تو ملک کو منافع بھی اتنا ہی اچھا ملے گا۔
Continue reading
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

موبائل فون کے فائدے اور نقصانات

موبائل فون جہاں ایک نعمت سمجھا جاتا ہے وہاں اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں۔ہاں یہ بات درست ہے کہ موبائل وقت کے ساتھ ساتھ ضرو رت بنتا جا رہا ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ ہم ۱۴ یا۱۵سال کی عمر کے بچوں کو
 

موبائل فون دینا شروع کر دیں۔آج کل لوگ یہ سوچ کر کہ موبائل فون کی بدولت ان کا ان کے بچے سے رابطہ رہے گا ،کم عمری میں ہی موبائل فو ن دے دیتے ہیں جو کہ نقصان کا با عث بنتا ہے۔ایسے کم عمر بچوں سے یا تو موبائل فون چور موبائل چھین لیتے ہیںیا پھر وہ خود ہی کہیں انجانے میں چھوڑ آتے ہیں ۔ متعدد ایسی خبریں بھی سننے میں آئی ہیں کہ موبائل چوروں نے موبائل فون چوری کرنے کے چکر میں موبائل نا ملنے پرقتل ہی کر ڈالا ۔تو اس بات کو کہنے کا مطلب Continue reading

Posted in UnCatagarized | Leave a comment

ماحولیاتی آلودگی ایک بڑا مسئلہ

سید محمد عابد

آلودگی دنیا میں رہنے والی اقوام کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے،اس سے نجات انتہائی ضروری ہے۔ آلودہ ماحول انسان کی زندگی کے لئے خطرہ ہے۔ انسان آلودہ ماحول میں سانس لےکر اپنے جسم میں بیماریوں کو
 

دعوت دیتا ہے۔دنیا میں ماحولیاتی آلودگی میں انتہائی اضافہ ہوتا جا رہا ہےجس پر قابو پانا نہ صرف انسان بلکہ
جانوروں کے لئے بھی ضروری ہے۔ درختوں کا کٹاﺅ آکسیجن کی کمی کا سبب بنتا ہے جبکہ دنیا میں روزانہ کروڑوں کی تعداد میں درختوں کا صفایا کر دیا جاتا ہے جب آکسیجن ہی نہیں ہو گی تو انسان کیسے زندہ رہے گا۔ زمانہ قدیم میں انسان نے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے درختوں کا کٹاﺅ شروع کیا اور نہ سمجھ سکا کہ کٹاﺅ کے ماحول پر کیا اثرات نمودار ہوں گے۔ Continue reading

Posted in UnCatagarized | 1 Comment

نامیاتی کاشتکاری،بہتر پیداوار کی حامل

Volume 2, Issue 3
سید محمد عابد
زراعت پاکستان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، ملک کا 70 فیصد زرمبادلہ زراعت ہی کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔ زراعت ملک کے ترقی کے لئے اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ کسی بھی انسان کے لئے آکسیجن ہوتی ہے۔ پاکستان کی زرعی اجناس بیرونی منڈیوں میں فروخت کی جاتی ہیں جس سےکروڑوں روپے کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔پاکستان میں رہنے والی آبادی کی اکثریت زراعت کے پیشے سے منسلک ہے۔ یہاں پہ بسنے والے زیادہ تر کسان غریب ہیں اور بہت کم رقبے کے مالک ہیں۔پاکستان کی چار فصلیں کپاس، گندم، گنا اور چاول کوبیرونی منڈیوںمےں خاص مقام حاصل ہے ، کسان کاشتکاری اور غلہ بانی کے ذریعے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔
پاکستان میں فصلوں کی بہترپیداوار حاصل کرنے کے لئے کیڑے مار ادویات ، کھادوں اور دوسرے کیمیائی اجزاءکا اس

Posted in UnCatagarized | Leave a comment

سورج مکھی اور تیل کی پیداوار

Volume 2, Issue 2
سید محمد عابد

پاکستان کو زراعت میں خاص مقام حاصل ہے،پاکستان اپنی بیشتر ضروریات فصلوںکو بیرون ممالک فروخت کر کے پورا کرتا ہے۔پاکستان میں متعدد اقسام کی فصلوں کو کاشت

کیا جاتا ہے ان میں کپاس، گنا، چاول اورگندم کی فصلیں شامل ہیں۔ پاکستان کی عوام کیونکہ شروع ہی سے زراعت سے وابستہ ہے اور تحریک پاکستان سے پہلے ہی پاکستان کےحصے میں آنے والے علاقوں میں کاشتکاری کی جاتی تھی اس لئے لوگوں کا زیادہ تر پیشہ بھی زراعت ہی ہے۔سبزیوں کے لئے پنجاب، پھلوں کے لئے سندھ جبکہ خشک مےوہ جات وغیرہ کے لئے خیبرپختونخواہ، بلوچستان اور گلگت بلتستان مشہور ہیں۔
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

زراعت میںبائیو ٹیکنولوجی کے اثرات

پاکستان میں زراعت بہت اہمیت کی حامل ہے، ملک میں بسنے والے عوام کا ستر فیصد اسی زراعت سے وابستہ ہے۔ اگر ہم زراعت کو چھوڑ کر بات کریں تو دس فیصد افراد کاروبار سے وابستہ ہیں اور باقی مختلف اداروں میں ملازمت کرتے ہیں۔

پاکستان کی برآمداد کا دارومدار زراعت کے پیشے سے ہی منسلک ہے پاکستان میں پیدا ہونے والا چاول، کپاس ، گندم، چینی اور اسکے علاوہ بہت سی اقسام کی فصلیں اہمیت کی حامل ہیں ۔ پاکستان ان فصلوں کو بین الاقوامی منڈی میں بیچ کر کثیر زرِ مبادلہ کماتا ہے۔ پاکستان ان بڑھتی Continue reading

Posted in UnCatagarized | Leave a comment

لوڈ شیڈنگ اور اسکا حل

پاکستان میں بجلی کی ضروریات دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں،ہمیں ہر ۵۱ سے ۰۲ دن بعد یہ بتایا جاتاہے کہ پاکستان میں بجلی کی کمی ہو گئی ہے اور اب لوڈ شیڈنگ کیوں کی جا رہی ہے۔ حکومت نے ۹۰۰۲ءسے لے کر اب تک بے شمار پروجیکٹس کا افتتاح کیا مگر ان میںسے بیشتر پروجیکٹ ابھی تک پایا تکمیل تک نہیں پہنچ سکے ہیں ۔ہمارے دل کو خوش کرنے کے لئے روز یہ خبر ٹی وی پر نشر کر دی جاتی ہے کہ آج فلان جگہ پر پلانٹ کا افتتاح کر دیا گیا اور اس سے بجلی کی ضروریات پوری ہو جائیں گی،اس طرح کی خبریں دل کو خوش کر نے کے لےے پچھلے ایک سال سے Continue reading
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

عید اور جانوروں کی خریدو فروخت

دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عیدوں اور دوسرے مزہبی تہواروں کو بڑے احترام سے منایا جاتا ہے، عیدالفطر کے قریب آتے ہی لوگ کپڑے اور دوسری اشیاءکی خریداری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ رمضان میں لوگ نمازو تراویح کے ساتھ ساتھ عید کی خریداری بھی شروع کر دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عیدوں پر کھانے پینے اور کپڑوں کے علاوہ دوسری اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ عیدالفطر کو رمضان کے اختتام پر منایا جاتا ہے، لوگ رمضان میں روزے رکھتے اور عبادت کرتے ہیں۔ رمضان کے اس مہینے میں روزہ ہمیں غریبوں کی بھوک کا احساس دلاتا ہے۔ ہمیں یہ محسوس ہو جاتا ہے کہ اگر ایک وقت کا کھانا نہ ملے تو کیسا لگتا ہے۔ رمضان ۹۲ سے ۰۳ دنوں Continue reading

Posted in UnCatagarized | 1 Comment

فصلوں کی پیداوار میں حائل رکاوٹیں

پاکستان نے زراعت میں تو ترقی کی اور زرعی ملک ہونے کی وجہ سے آگے بھی زرعی تحقیق اور ترقی کا دور آگے بھی جاری رہے گا مگر پاکستان کی فصلوں میں بیج اور کھاد میں ملاوٹ اور روایتی طریقہ کاشتکاری پاکستان کی زراعت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ زرعی سطح پر ہونے والی ملاوٹ کو روکنا وقت کے ساتھ ساتھ اور بھی ضروری ہوتا چلا جا رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں آنے والے سیلاب نے فصلوں کو شدید متاثر کیا، خاص کر کپاس کی فصلوں کو شدید نقصان ہوا۔ سندھ کے بیشتر علاقوں میں کپاس کی فصلیں کھیت میں کٹائی کے بعد یوں ہی چھوڑ دی گئی تھیں اور سیلاب کپاس کو بہا کر لے گیا۔ اس کے علاوہ گنا اور چاول کی فصل کو بھی نقصان ہوا اور ان سب نقصانات کا Continue reading

Posted in UnCatagarized | Leave a comment

زراعت ، بائیوٹیکنولوجی اور جدید تحقیق

پاکستان میں زراعت کو بہت اہمیت حاصل ہے ،ملک کی تقریباَ ۰۷ فیصد آبادی کا پیشہ زراعت ہونے کی وجہ سے پاکستان کی ترقی کا انحصار بھی زراعت ہی پر ہے۔فصلوں کی بہتر پیداوار حاصل کر کے انھیں بیرون ممالک فروخت کیا جاتا ہے جس سے زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔پاکستان اور زراعت کے رشتہ کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پاکستان کی عوام پاکستان کی پیدائش سے پہلے ہی زراعت کے پیشے سے منسلک تھی۔ پاکستان کے حصے میں آنے والے علاقوں میں سے بیشتر علاقوں کی عوام کھیتی باڑی کے پیشہ سے منسلک تھی اور ان کا گزارا بھی اسی پر تھا۔
پاکستان میں پائی جانے والی اہم فصلوں Continue reading

Posted in UnCatagarized | 1 Comment

بھوک کے خلاف متحد ہو جاﺅ

دنیا کے دیگر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ۶۱ اکتوبر ۰۱۰۲ءکو عالمی یوم خوراک منایا گیا، پاکستان اس دن کوہر سال انتہائی جوش و جزبے کے ساتھ مناتا ہے۔ یہ دن ہمیں ہر سال یاد کراتا ہے کہ ہمارے لئے خوراک کی کیا اہمیت ہے اور اگر خوراک نہ ہو یا پھر کمی ہو جائے تو کیا ہوتا ہے۔ خوراک ہمارے لئے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ انسان کے لئے اوکسیجن، بس صرف فرق اتنا ہے کہ آکسیجن کے بغیر انسان ایک منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا جبکہ خوراک کے بغیرانسان ایک یا ایک سے زیادہ دن زندہ رہ سکتا ہے۔ خوراک کی اہمیت ہر انسان کےلئے برابر ہے، کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ وہ خوراک کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کوعا لمی یوم خوراک کا دن Continue reading
Posted in UnCatagarized | 1 Comment

ڈیم ،سستی بجلی اورپانی کا ذخیرہ

پانی نہ صرف انسان کو زندہ رکھنے کے لیے بلکہ اناج سے لے کر گھروں کی تعمیر تک کے لیے ضروری ہے۔یہ خداتعا لی کی طرف سے دی گئی وہ نعمت ہے جس کو اگر طریقہ سے استعمال کر کے فائدہ اٹھایا جائے تو ہریالی ہی ہریالی اور اگر پانی کا ضیاع کیا جائے اور ذخیرہ کا صحیع انتظام نہ کیا جائے تو بڑا نقصان ہے ۔یہ خدا تعالی کی نعمت کو ٹھکرانے کے برابر ہے۔پانی کے فائدہ بہت ہیں یہ صرف سوچنے کی بات ہے کہ اس کا فائدہ کیسے اٹھا یا جائے۔پانی کے ذخیرہ کے لیے جب بھی ڈیم کی بات کی جاتی ہے تو پاکستانی عوام صرف دو بڑے نام( تربیلا اور منگلا )لے کر ہی خاموش ہو جاتی ہے جبکہ پاکستان کو خدا تعالی نے بے شمار نعمتیں عطا کی ہےں ،پاکستان میں متعد د علاقوں میںایسے پہاڑی سلسلے پائے جاتے ہیںجہاں صرف ایک طرف سے دیوار بنا Continue reading
Posted in UnCatagarized | Leave a comment

واٹر فلٹریشن پلانٹس کی حالت ذار

پانی خدا تعالی کی طرف سے دی گئی انمول نعمت ہے، یہ ایک ایسا خزانہ ہے جو لاکھوں ،کروڑوں بلکہ پوری دنیا کی آبادی کوزندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔پانی کی ضرورت ہر قوم کو ہے اس کے بغیر زندگی نا ممکن ہے۔پانی کی ضرورت انسان کو ہر چیز میں ہے چاہے وہ کھانا ہو،پینا ہو ،نہانا ہو،پکا نا ہو یہا ں تک کہ عمارات کی تعمیر میں بھی پانی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ پانی عام طو ر پر دو طرح کا ہو تا ہے ایک گندا اور دوسرا صاف،صاف پانی کا استعمال پینے اور نہا نے کے لیے ہو تا ہے،انسان،جانوراور چرند پرند اسے پی کر اپنی پیاس کوبجھاتے ہیں جبکہ گندے Continue reading

Posted in UnCatagarized | Leave a comment

گوگل کی کامیابیاں

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں کچھ بھی اگر لگن اور محنت کے ساتھ کیا جائے تو ہمیشہ کامیابی ملتی ہے،یہی مثال گوگل کی ہے ۔ جب لیری پےج اورسیرجی برن نے گوگل کا آغاز کیا ، انھوں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کا شروع کیا جانے والا یہ گوگل اتنا مقبول ہو گا کہ پوری دنیا اسے استعمال کرے گی۔آج کے دور میں بلینزکی تعداد میں لوگ گوگل کااستعمال کرتے ہیں ۔لفظ گوگل کا حسب کے لحا ظ سے مطلب ہے کہ “میں سو سے زیادہ زیرو کا پیچھا کرتا ہوں”۔ لیری پج اورسیرجی برن نے گوگل کو سٹینڈفورڈ یونیورسٹی کے ایک خاموش اور پر سکوں کمرے میں اس نیت سے شروع کیا کہ ایک آسان اورفری ویب سائٹ عمل میں لائی جائے جسے کچھ لوگ استعمال کر سکیں، تب ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان کا شروع کیا جا نے والا یہ گوگل اتنا مشہور ہو گا۔
آج کل کے جدید دور میں جہاں ان دس برسوں میںکمپیوٹراورانٹرنیٹ نے بے انتہا ترقی کی ہے اور بے شمار ادارے گوگل سے ملتی جلتی خدمات پیش کررہے ہیں وہاں اب بھی یہ گوگل سب سے آگے Continue reading

Posted in UnCatagarized | Leave a comment

سیلابی تباہی اورمتاثرین کی آبادکاری

پاکستان کی تاریخ میں آنے والے سیلا بوں میں سب سے بڑا اور تباہ کن سیلا ب۸۲جولائی کو ہونے والی بارشوںکے نتیجہ میں بنن ے والے سیلا ب کو کہا جا رہا ہے ۔اس سیلاب میں ۷۱ ملین افراد تباہی کا شکا ر ہوئے،پنجاب،سندھ اور خیبرپختونخواہ کے پیشتر اضلاع میں نقصان ہوا۔

اب تک قریبا ۰۰۰،۰۵۶ سے زیادہ لوگوں کے مقانات تباہ ہو ئے ، ب یشتر مقامات پر بستیوں اور شاہراہوںکانام ونشان تک مٹ چکا ہے۔سندھ سے آنے والے ریلے نے کراچی اور سندھ کو ملا نے والی شاہراہ کوتباہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق متعدد نقصانات میں ۰۵۶۱افراد کی اموات ہوئیں، تقریبا ایک بلین سے زیادہ مالیت کی فصلیں تباہ ہوئیں ،۴ئ۱ملین کابل کاشت رقبہ متاشر ہوا،بیشترپاورپلانٹس کو سیلاب کی وجہ سے بند کرنا پڑا،ار بوں روپے کی مالیت کے مویشی بہ Continue reading
Posted in UnCatagarized | Leave a comment

ٹیکنولوجی کے جدید آلات

آج کے اس جدید دور م یں دنیا کے بیشتر ممالک نے ٹیکنو لو جی کا استعمال کیا اورنتیجہ فا ئدے کی ہی صورت میں دیکھنے میں آیا۔ٹی کنولو جی نے ہمارے مشکل سے مشکل کام آسان کر دیئے ہیںجو کا م کسی وقت میں
 

کرتے ہوئے گھنٹوں لگ جایاکرتے تھے آج اس کام کو چند ہی منٹ میں کیا جا سکتا ہے۔ شروع میں ٹیکنو لوجی  کے آنے کی وجہ سے بیشتر افراد بے روزگار ہوئے مثلا فوٹو گرافر کا کام آج سے کچھ سال پہلے صرف فوٹو گرافر ہی کر سکتا تھا م گر اب ٹیکنولوجی آنے کے بعد کوئی بھی ڈجیٹل کیمرے سے تصویر بنا کر اسے کمپیوٹر کی مدد سے ڈویلپ کر س کتا ہے،ایسے ہی مختلف پیشہ ور اپنی روزی سے محروم ہوئے مگر ان سب باتوں Continue reading

Posted in UnCatagarized | Leave a comment